قرآن مجید اور عورت از ڈاکٹر محمد حمید اللہ

قرآن مجید اور عورت

نزول قرآن کی جوبلی

سب سے پہلے ایک حقیر عرض ہے۔ قرآن مجید کی پہلی وحی ۲۷ رمضان  13     ؁ء قبل ہجرت کو غار حرا میں ہوئی ۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ  1388    ؁ھ میں اس پر چودہ صدیاں گزرچکیں گی۔  ضرورت ہے کہ دنیا میں ہر جگہ اس تقریب کو شایان شان طور پر منانے کی تیاریاں ابھی سے شروع کی جائیں۔ علمی نمائشیں ہوسکتی ہیں ( قرآن مجید کے قلمی اورمطبوعہ نسخے تراجم قرآن، تفاسیر قرآن و دیگر علوم قرآن کی کتابیں) تقریر میں، مشاعرے میں غرض منصوبہ بندی کے تحت کام ہو تو نتیجہ مفید ہو سکتا ہے۔ .

عہد نبوی میں زمانہ تعلیم قرآن

ابن اسحاق کی لکھی ہوئی سیرت النبی شہرہ آفاق ہے ان کی وفات 148 ؁ھ کے لگ بھگ ہوئی۔ ان کی تالیف ناپید سمجھی جاتی تھی۔ مگر اتفاق سے اس کا ایک ٹکڑا (مراکش) میں اور ایک دوسرا ٹکڑا  دمشق میں ملا ہے ، مراکشی ٹکڑے میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ بیان ہوا ہے لکھا ہے کہ: ۔

جب کبھی رسول کریمؐ  پر کوئی وی نازل ہوتی تو پہلے آپ اسے مردانہ اجتماع میں سناتے پھر زنانہ اجتماع میں خاص  عورتوں کو سناتے بار بار عورتیں سوال کرتیں اور جو بات سمجھ میں نہ آتی اس کی وضاحت چاہتیں۔

حافظہء قرآن  صحابیہ:

قرآن مجید کو حفظ کرنے کا رواج عہد نبوی ہی سے چلا آرہا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں عورتیں بھی شامل تھیں ۔ حضرت ام ورقہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کا ذکر حدیث کی کئی مستند کتابوں میں ہے۔ لکھا ہے کہ:

یہ حافظ تھیں اور رسول اکرم نے ان کو ان کے محلے کی مسجد کا امام مقر فرمایا تھا۔ راوی کہتے ہیں :

میں نے اس بوڑھے مؤذن کو دیکھا ہے جو اس مسجد میں پنج وقتہ اذ ان دیا کرتا تھا۔ (اور ظاہر ہے کہ وہ بھی اقتداء کرتا تھا)۔ اس بارے میں فقہا نے بڑی بحثیں کی ہیں کہ عورت کی امامت جائز ہے یا نہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ

’’ام ورقہ کا واقعہ ابتدائے اسلام سے ہے بعد میں منسوخ ہو گیا۔“ مگر ایسی کوئی حدیث نہیں ملتی جس میں بی بی کو بعد میں امامت سے ممانعت کر دی گئی ہو۔ کوئی کہتا ہے کہ: ۔

“یہ انفرادی اور خصوصی اجازت ہے۔ “

ابھی گزشتہ ہفتے کی بات ہے یہاں اس کی ضرورت پیش آئی۔ ایک افغان لڑکی نے ڈنمارک کے ایک طالب علم سے شادی کر لی اور اس کی کوشش سے شوہر بھی مسلمان ہو گیا۔ وہ مجھ سے پوچھنے آئی۔ میرے شوہر کو ابھی سورہ فاتحہ تک یاد نہ ہو سکا۔ تشہد ثنا غیرہ بہت دور ہیں ۔ کیا میں اس کی امامت کر سکتی ہوں ۔ میں نے کہا کہ فقہا تو اجازت نہیں دیتے۔ لیکن جب تک تمہارے میاں کو دو تین سورتیں یاد نہ ہو جائیں حضرت ام ورقہؓ کی طرح سے تم ہی نماز پڑھا دیا کرو۔ کہنے گی:

صدقے جاؤں اس نبی کے جو ہمارے فقہا ء سے زیادہ وسیع النظر ہے‘

حافظہء قرآن  صحابیہ:

قرآن مجید کو حفظ کرنے کا رواج عہد نبوی ہی سے چلا آرہا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں عورتیں بھی شامل تھیں ۔ حضرت ام ورقہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کا ذکر حدیث کی کئی مستند کتابوں میں ہے۔ لکھا ہے کہ:

یہ حافظ تھیں اور رسول اکرم نے ان کو ان کے محلے کی مسجد کا امام مقر فرمایا تھا۔ راوی کہتے ہیں:

میں نے اس بوڑھے مؤذن کو دیکھا ہے جو اس مسجد میں پنج وقتہ اذ ان دیا کرتا تھا۔ (اور ظاہر ہے کہ وہ بھی اقتداء کرتا تھا)۔ اس بارے میں فقہا نے بڑی بحثیں کی ہیں کہ عورت کی امامت جائز ہے یا نہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ

’’ام ورقہ کا واقعہ ابتدائے اسلام سے ہے بعد میں منسوخ ہو گیا۔“ مگر ایسی کوئی حدیث نہیں ملتی جس میں بی بی کو بعد میں امامت سے ممانعت کر دی گئی ہو۔ کوئی کہتا ہے کہ: ۔

“یہ انفرادی اور خصوصی اجازت ہے۔ “

ابھی گزشتہ ہفتے کی بات ہے یہاں اس کی ضرورت پیش آئی۔ ایک افغان لڑکی نے ڈنمارک کے ایک طالب علم سے شادی کر لی اور اس کی کوشش سے شوہر بھی مسلمان ہو گیا۔ وہ مجھ سے پوچھنے آئی۔ میرے شوہر کو ابھی سورہ فاتحہ تک یاد نہ ہو سکا۔ تشہد ثنا غیرہ بہت دور ہیں ۔ کیا میں اس کی امامت کر سکتی ہوں ۔ میں نے کہا کہ فقہا تو اجازت نہیں دیتے۔ لیکن جب تک تمہارے میاں کو دو تین سورتیں یاد نہ ہو جائیں حضرت ام ورقہؓ کی طرح سے تم ہی نماز پڑھا دیا کرو۔ کہنے گی:

صدقے جاؤں اس نبی کے جو ہمارے فقہا ء سے زیادہ وسیع النظر ہے‘

امہات المؤمنین

رسول اکرم پر سب سے پہلی وحی سوره اقراء کی جن آیتوں سے ہوئی ان میں سب سے پہلا لفط ہے’’پڑھ اور پھر قلم کی تعریف ہے کہ اس کی مدد سے انسان وہ ساری چیزیں سیکھتا ہے جو دوسروں کوتو معلوم تھیں لیکن خود اسے معلوم نہیں تھیں ۔ رسول کو پڑھ کا حکم ہو اور وہ تعمیل نہ کرے! آپ کی ساری عمر یہی کوشش رہی کہ ملک و ملت میں علوم کا رواج ہو۔ اس نعمت خداوندی سے عورتیں کیسے محروم رکھی جا سکتیں۔

حضرت عمر ؓ کی رشتہ دار شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے زمانہ جاہلیت ہی میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ حدیث کی کتابوں میں ذکر ہے

بی بی نے ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو لکھنا پڑھنا سکھایا ۔ اور اس پر رسول اکرم بہت خوش تھے

متعدد دیگر ازواج مطہرات کے متعلق بھی بلا ذری و غیره مورخوں نے صراحت کی ہے کہ انہیں پڑھنا آتا تھا۔ اور وہ قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول رہا کرتی تھیں۔ بلاذری نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق خاص کر ہی لکھا ہے کہ انہیں پڑھنا آتا تھا۔ لکھنا نہیں آتا تھا۔ اور یہ کہ وہ ہمیشہ قرآن مجید خود بھی تھیں اور لڑکیوں کو بھی اس کی تعلیم دیا کرتیں ۔ بعض وقت تو مرد بھی ان سے مسئلے مسائل پوچھنے آیا کرتے۔

امہات المؤمنین

رسول اکرم پر سب سے پہلی وحی سوره اقراء کی جن آیتوں سے ہوئی ان میں سب سے پہلا لفط ہے’’پڑھ اور پھر قلم کی تعریف ہے کہ اس کی مدد سے انسان وہ ساری چیزیں سیکھتا ہے جو دوسروں کوتو معلوم تھیں لیکن خود اسے معلوم نہیں تھیں ۔ رسول کو پڑھ کا حکم ہو اور وہ تعمیل نہ کرے! آپ کی ساری عمر یہی کوشش رہی کہ ملک و ملت میں علوم کا رواج ہو۔ اس نعمت خداوندی سے عورتیں کیسے محروم رکھی جا سکتیں۔

حضرت عمر ؓ کی رشتہ دار شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے زمانہ جاہلیت ہی میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ حدیث کی کتابوں میں ذکر ہے

بی بی نے ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو لکھنا پڑھنا سکھایا ۔ اور اس پر رسول اکرم بہت خوش تھے

متعدد دیگر ازواج مطہرات کے متعلق بھی بلا ذری و غیره مورخوں نے صراحت کی ہے کہ انہیں پڑھنا آتا تھا۔ اور وہ قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول رہا کرتی تھیں۔ بلاذری نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق خاص کر ہی لکھا ہے کہ انہیں پڑھنا آتا تھا۔ لکھنا نہیں آتا تھا۔ اور یہ کہ وہ ہمیشہ قرآن مجید خود بھی تھیں اور لڑکیوں کو بھی اس کی تعلیم دیا کرتیں ۔ بعض وقت تو مرد بھی ان سے مسئلے مسائل پوچھنے آیا کرتے۔

قرآن میں عورت کا ذکر :

دیگر ادیان کی کتابوں میں عورت کا ذکر نہیں آتا اور اگر ہے بھی تو ان کی برائی کرنے کے لیے ۔ عورتوں میں برائیاں ہوں گی تو کیا مردوں میں نہیں؟ اچھے اور برے دونوں صنفوں میں ہیں۔ بہرحال قرآن مجید میں ایک پوری ہی سورت سورہ نساء ہے اور ایک اور سورہ مریم بھی ہے! اچھی عورتوں کی مثالوں میں ۔’’امرأة فرعون‘ (فرعون کی ملکہ آسیہ ) اور مریم بنت عمران کا صراحت سے ذکر ہے۔

بری عورتوں میں دو پیغمبروں کی بیویوں (امراة نوح وامراة لوط ) اور آنخضرت کی چچی امراة ابی لہب کی مثال دی گئی ہے۔

حضرت حوا کا قرآنی ذکر خاص کر سبق آموز ہے۔ توریت کے پیروؤں کا بیان ہے کہ انہوں نے حضرت آدم کو بہلا پھسلا کر شجر ممنوعہ کے کھانے پر آمادہ کیا۔ جس کی پاداش میں جنت سے نکلنا پڑا۔ گویا سارے بنی نوع انسان کی مصیبتوں کی ذمہ دار وہی ہیں۔ انجیل پرستوں کے ہاں عام طور سے یہ مانا جاتا ہے کہ اس حادثے کی بناء پر یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر انسان اپنی فطرت ہی سے گنہگار پیدا ہوتا ہے۔ اور یہ کہ حضرت تک اس کا کفارہ بنے ۔ لیکن فرقہ لوگومیل نے حد کر دی۔ ان کا عقیدہ ہے کہ: حضرت حوا کا بیٹا قابیل (قین) حضرت آدم کے نطفے سے نہ تھا۔ بلکہ اس کا باپ شیطان تھا۔“

(”جن لوگوں کو اپنی دادی پر اتنی بڑی تہمت لگانے کی جسارتہوئی ہے انہیں حرام زادہ نہیں تو کیا کہا جائے‘‘)

لیکن قرآن نے اس قصہ کا کیا ذکر کیا ہے۔ وہاں بی بی حوا کا کوئی قصور نہیں ہے۔ شیطان نے حسد سے حضرت آدم کو بہکایا۔ شیطان نے ان دونوں کو گمراہ کیا۔ ان دونوں نے اس شجرۂ ممنوعہ کا پھل کھایا وغیرہ۔

توریت و قرآن دونوں میں اس کا ذکر ہے کہ حضرت آدم کے نہ باپ تھانہ ماں۔ خدا نے انہیں براہ راست مٹی میں روح بھر کر پیدا کیا۔ حضرت عیسیٰ کا زمانہ متاخر ہے۔ اس لیے تورات میں ان کا ذکر ہیں ۔ انجیل اور قرآن کے مطابق ان کی صرف ماں تھی ۔ اور وہ بن باپ کے بطور معجزه پیدا ہوے۔

ایک خاص مذہب والے اس سے نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ حضرت عیسی خدا تھے اور خدا کے بیٹے تھے۔ لیکن قرآن نے کیا میٹھا جواب دیا ہے:

أن مثل عیسی عند الله كمثل آدم۔

عیسیٰ کی مثال اللہ کے ہاں آدم کی مثال کی طرح ہے۔ عیسیٰ کے باپ نہ تھے تو آدم کاباپ تو کیا ماں بھی نہ تھی۔ جب آدم اس طرح خدا نہ بن گئے تو حضرت عیسیٰ کو یہ رتبہ کیوں دیتے ہو؟ قرآن مجید کے ۲۸ ویں پارے کا آغاز بھی دلچسپی سے خالی ہیں:

قد سمع الله ۔ اللہ نے اس کی بات سن لی جو اے محمد تجھ سےاپنے شوہر کے متعلق جھگڑتی اور اللہ سے فریاد کرتی ہے۔ یہاں بھی عورت کی کوئی برائی نہیں ہے۔ بلکہ عورت ہی پر الله کورحم آتا ہے اور مرد کے خلاف اسکی شنوائی کرتا ہے۔

دوقرآنی محاورے بھی قابل ذکر ہیں: نوشتہ تقدیر کو نام دیا گیا ہے۔ ام الکتاب (کتاب کی ماں) یا (احکام کی ماں) باپ پر ماں کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ اور معنی خیز لفظ ” ام القری‘‘ (شہروں کی ماں) جوشہر

مکہ کا لقب ہے۔ خدا کی ذات ماورائے ادراک ہے۔ اس کی قدرت کو سمجھانے کیلیے اس کا ذکر اسی طرح کیا جاسکتا ہے کہ انسان کی جانی بو جھی اور اس کے ماحول کی چیزوں سے ماخوذ ہو۔ اسلیے قرآن کہتا ہے کہ خدا بادشاہ ہے۔ اس کے پاس فوجیں ہیں، خزانے ہیں، تحت ہے ۔

ضرورت تھی کہ ان تفصیلوں کو اور آگے بڑھایا جائے۔ بادشاہت کیلیے پایہ تخت کی ضرورت ہے اور پایہ تخت ام القرٰی ہی میں ہو سکتا ہے۔ پھر اس ام اقرٰی میں جو انگریزی کے مٹروپس (METROPOLIS) کا لفظی مترادف ہے، قصر شاہی ہونا چاہیے اس کا نام بیت اللہ سے بہتر کیا ہوسکتا ہے۔ اظہار اطاعت کیلیے انسان کو قصر شاہی پر حاضری کی ضرورت ہوتی ہے۔ (حج کیلیے)

آخر میں حضرت بلقیس کا بھی ذکر کیا جا سکتا ہے۔ قرآن مجید میں ذکر ہے کہ یہ یمن میں ریاست سبا  کی حکمران تھیں اور مجلس شوری کی مدد سے حکومت کرتی تھیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعوت پر ان سے ملنے بیت المقدس گئیں۔ اور وہاں ان کے ہاتھ پر اسلام بھی لے آئیں۔ غرض قرآن مجید کے مطابق عورت سماج کے بلند ترین مرتبے یعنی بادشاہت تک پہنچ سکتی ہے۔ اور قرآن اسے بُر انہیں قرار دیتا۔

عورت کے متعلق احکام

پرانے زمانے میں عورت کی کوئی مستقل شخصیت  نہ تھی۔ دھرم شاستر میں اب تک عورت کو اپنے شوہر کی وراثت تک میں کوئی مستقل حصہ نہیں ملتا۔ وہ اس ترکے کے ایک حصے سے تاحیات استفادہ کر سکتی ہے اور بس۔

اسلام سے قبل مدینہ منورہ کے عربوں میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص کی وفات پر اس کی بیوی بیٹی تو کیا نابالغ بیٹے کو بھی کوئی حصہ نہ ملتا۔ قریبی رشتہ داروں میں جو بالغ مرد ہوتے وہ ساری جائداد کے وارث بن جاتے۔

اس طرح کا ایک واقعہ آنحضرت کے علم میں آیا۔ کسی غزوے میں ایک صحابی شہید ہو گئے ۔ یہ کھاتے پیتے شخص تھے۔ بیوہ اور کم عمر بچوں کی پرورش تھی کہ اس کیلیے ایک پیسہ تک ہاتھ میں نہ تھا۔ رسول اکرم بے چین ہو گئے اور خدا سے دعا فرمائی۔ اس پر وہ آیتیں نازل ہوئیں جن پر قرآن مجید کا قانونِ وراثت مبنی ہے۔ اس میں بیوی، بیٹی اور ماں کو ہمیشہ بہن، نانی، دادی ، بھتیجی کو متعدد حالتوں میں حصہ ملتا ہے اور یہ حصہ قطعی  ہوتا ہے۔

قرآن کیلیے عورت ایک مستقل شخصیت ہے۔ بیٹی  ہو کہ بیوی ہو  یا  ماں ۔ اس کی حیثیت ایک مستقل فرد کی ہوتی ہے کہ نہ باپ کے شوہر نہ کے نہ بیٹے کے وہ دست نگر ہوتی ہے۔ اسے وراثت اور ہبے میں بھی کوئی جائیداد حاصل ہو سکتی ہے۔ اور وہ خود بھی کچھ کماسکتی ہے۔ اسے مہر بھی ملتا ہے۔ اس کی پرورش کیلئے قانون حکماً  باپ، شوہر، بیٹے، بھائی وغیرہ سے نفقہ بھی دلاتا ہے۔ اس نفقے کے باوجود بھی اسےوراثت  دلائی جاتی ہے۔ قرآن کے مطابق بعد میں اس سے کوئی بھی یہ جائیداد اس کی رضا مندی کے بغیر لے نہیں سکتا۔

اس کی شخصیت کے مستقل ہونے کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ نکاح میں اسکی رضامندی بھی لازمی ہے۔ عقد نکاح میں وہ شرطیں بھی شامل کراسکتی ہے کہ میرا یہ شوہر میری موجودگی میں کسی اور عورت سے نکاح نہ کرے گا۔ یا  یہ کہ مجھے بھی شوہر کو طلاق دینے کا حق ہو گا وغیرہ۔

تعدد ازواج کی قرآن نے اجازت ضرور دی ہے۔ لیکن یہ عورت کی رضامندی پر منحصر ہے۔ اگر کسی کے پاس پہلے سے ایک بیوی ہے تو نئی دلہن ہی پرمنحصر ہے کہ ایسے نکاح کو منظور کرے یا نہیں؟

میاں بیوی میں جھگڑے ہوں تو قرآن مجید نے تحکیم کا ادارہ قائم کر دیا ہے۔

عورت کی عزت و عفت پر الزام لگانے کو قرآن نے انتہائی سنگین جرم قرار دیا ہے۔ کہ مجرم کو نہ صرف سو کوڑے مارے جائیں بلکہ ساری عمر اس کو عدالت میں نا قابل شہادت قرار دیا ئے۔

ایک ہی جرم پر مرد کو جو سزا دی جاتی ہے بعض صورتوں میں اسی پر عورت کو نصف سزا دی جاتی ہے۔

عبادات میں بھی اس کو رعایتیں ہیں۔

 نقاب

قرآن مجید نے خمار اور جلباب دوقسم کے برقعوں کا ذکر کیا ہے، خمار صرف چہرے کو چھپاتا ہے اور جلباب سارے لباس کو ڈھانپ لیتا ہے۔

ایک دن پیرس میں ایک زنانه انجمن نے (جس میں سفیروں کی بیویاں وغیرہ طبقہ اعلی کی خواتین رکن ہیں) مجھے اس موضوع پر تقریر کی دعوت دی۔ میں نے کہا:

’’نقاب عورت پر پابندی کیلیے نہیں بلکہ خود اس کے فائدےکے لیے ہے (قرآن سے پہلے عہد جدید یعنی انجیل نے سینٹ پال نے بھی یہی حکم دیا ہے)۔ عورت فطرة ً بن ٹھن کر رہتی ہے کہ خوبصورت نظر آئے نقاب اسی حسن کی حفاظت کیلیے ہے۔ آپ دیہات میں دھوپ میں کام کرنے والی عورتوں کے ہاتھ کا اپنے نازک ہاتھ سے مقابلہ کیجیے۔ اپنے چہرے اور ہاتھ کے چمڑے اور رنگ کا اپنے ہی جسم کے ہمیشہ ڈھکے ہوئے رہنے والے اعضاء کے چمڑے اور رنگ سے مقابلے کیجیے۔ کسی جانور کو لیجیے اور اس کی پیٹھ اور پیٹ کے چمڑوں کا مقابلہ کیجیے۔ کسی پرندے کو لیکر اس کے بیرونی اور دھوپ کھانے والے پروں کا مقابلہ ان پروں سے کیے جو پکوٹھوں  کے اندر ڈھکے رہتے اور دھوپ کی مار نہیں کھاتے ہیں ۔ جو عورت عادتاً نقاب برتے گی اس کی ملاحت اور اس کے جسم کی ملائمت کا مقابلہ وہ عورت بھی نہیں کرسکتی جو نقاب کو وبال جان سمجھتی ہے۔“

میں نے دیکھا چہروں پر خفگی کی جگہ مسکراہٹ تھی۔ اور جب میں جانے لگا تو میں غالباً میکسیکو کے سفیر کی بیوی نے کہا اب میں نقاب شروع کرونگی۔

(خاتون پاکستان – قرآن مجیدنمبر 1384ھ)

You might also like
Comments
Loading...