ڈاکٹر محمد حمید اللہ بنام مدیر ماہنامہ الحق، شمارہ جنوری 1983ء

پیرس
5 ربیع الانور 1403ھ
مخدوم و محترم زاد فیضکم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
یہ دیکھ کر حقیقی مسرت ہوتی ہے کہ الحمد للہ الحق کا علمی معیار روز بروز بلند سے بلند تر ہوتا جا رہا ہے اور اس میں ناظرین کے ہر طبقے کے لیے کچھ نہ کچھ دلچسپی کی چیزیں مل جاتی ہیں۔
فرعون کے مقام غرقابی کے متعلق جواب ہی نہیں جواب الجواب بھی ہو چکا ہے۔ اگر آپ کے اصول اجازت دیتے ہوں تو دو ایک لفظ مزید عرض کرنے کی اجازت چاہوں گا۔
محترم ایڈوکیٹ صاحب نے قرآن مجید کی وہ ساری آیتیں نقل فرمائیں جن میں فرعون کے ڈوب مرنے کا ذکر ہے لیکن کیا انھوں نے غور فرمایا کہ ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں کہ سمندر نے فرعون کی لاش کو ساحل پر پھینکا۔ یہ دعوی ہے جس کا ثبوت چائییے۔
ممدوح نے آیات کےنقل کرنے میں سورہ طہ سےسکوت برتا ہے جس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا کہ:
1۔ فَاقْذِفِيْهِ فِى الْيَـمِّ (اے موسی کی ماں اس بچے کو یم میں پھینک دے) سورہ 20 آیت 39 اور فَغَشِيَـهُـمْ مِّنَ الْيَـمِّ مَا غَشِيَـهُـمْ (فرعون اور اس کی فوجوں کو یم نے جیسا ڈھانکنا تھا ڈھانک لیا) سورہ 20، آیت 78)
ایک ہی لفظ یم دونوں جگہ ہے۔ کیا حضرت موسی کو ان کی ماں نے بحر احمر میں پھینکا تھا؟
شاید الحق کے ناظرین کو یہ معلوم کر کے دلچسپی ہو گی۔ عبرانی تورات میں بھی دونوں جگہ سوپ یام کا لفظ ہے۔ یام وہی لفظ ہے جو عربی میں یم بن گیا ہے۔ جب تورات کا عبرانی سے روح القدس کی نگرانی میں اولیاء اللہ نے لاطینی میں ترجمہ کیا جیسا کہ کیتھولک عیسائی عقیدہ ہے تو انھوں نے فرعون کے سلسلے میں سوپ یام یعنی بحر العقب (گنے کے جیسی بڑی گھاس) کے پانی کی جگہ بحر احمر استعمال کیا۔ ۔ اب جدید ترجموں میں نیز قدیم پراٹسنٹنٹ تراجم میں بحر العقب ہی ترجمہ ہوا ہے۔
حقیر و جاہل
محمد حمید اللہ
ماخذ: ماہنامہ الحق جنوری 1983ء

You might also like
Comments
Loading...