ڈاکٹر محمد حمید اللہ بنام مظہر ممتاز قریشی، 22 رمضان المبارک 1412ھ

22 رمضان المبارک 1412ھ
مخدوم و محترم زاد مجدکم
سلام مسنون ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آپ کا تازہ کرم نامہ پہنچا۔ ممنون ہوا۔ اس میں تکبیر اخبار کے ایک صفحے کی فوٹو کاپی بھی ہے۔ زحمت فرمائی۔ جزا کم اللہ۔
دہلی کے رسالے(1) کا نام یاد نہیں آ رہا ہے۔ وہ لوگ ایک مسلمان صدر جمہوریہ ہند کے اعزاز کے لیے ایک خصوصی کتاب چھاپنا چاہتے تھے۔ اس سے زیادہ اب کچھ یاد نہیں آ رہا ہے۔ حافظہ روز بروز کمزور تر ہوتا جا رہا ہے۔ حضرت ابراہیم(2) پر جو کتاب زیر تدوین ہے وہ ان شاء اللہ مدراس میں چھپے گی۔
ہمدرد والوں نے کتاب النبات(3) کا پروف دوم بھیجا مگر میری اصلی تالیف کے فوٹو نہ بھیجے۔ اس سے زحمت ہے، اللہ کی مرضی۔
میری کتاب روزہ کیوں؟ ہے روزہ کیا ہے سے میں واقف نہیں۔
میری کتاب النبات کی ایک جلد مصر سے چھپی ہے۔ دوسری جلد سالہا سال ہمدرد والوں کے ہاں ہے۔
مجھے 25 اپریل کو اسلام آباد جانے کا ہوائی ٹکٹ(4) ملا ہے۔ پروگرام کا تا حال انتظار ہی ہے۔
سب کو سلام یاد آتے ہیں۔
نیاز مند
محمد حمید اللہ
________________
حواشی:
(1) ڈاکٹر صاحب جمہوریہ ہند کے مسلمان صدر کے لیے ایک خصوصی کتاب شائع کرنا چاہتے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب کو دہلی کے رسالے کا نام یاد نہیں رہا جس میں یہ خبر چھپی تھی جس پر ڈاکٹر صاحب نے اپنے حافظے کی کمزوری کا ذکر کیا ہے، حالاں کہ ڈاکٹر صاحب کا حافظہ بہت اچھا ہے۔
(2) ڈاکٹر صاحب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رشتے دار پر ایک تاب تالیف کی تھی اور ان کا خیال تھا کہ یہ کتاب مدراس سے شائع ہو گی۔ غالباً ڈاکٹر صاحب کے رشتےدار اپنے ٹرسٹ کے تحت یہ کتاب شائع کی۔
(3) ڈاکٹر صاحب نے اپنی تالیف شدہ کتاب النباب کے بارے میں لکھا ہے اور دوسری پروف کاپی کا ذکر کیا ہے۔ لیکن شکایت کی ہے کہ کتاب کی اصل کاپی نہیں بھجوائی نہ اس کی فوٹو کاپیاں جس کی وجہ سے پروف پڑھنے میں مشکل ہو سکتی ہے۔
(4) ڈاکٹر صاحب نے لکھا کہ اسلام آباد والوں کی طرف سے ان کو وہاں جانے کا ہوائی ٹکٹ بھجوایا گیا ہے لیکن پروگرام باقی ہے۔

You might also like
Comments
Loading...